اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور انڈونیشیا کے وزیر سرمایہ کاری روزان روسلانی نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو دوطرفہ تعاون کے اہم ستون قرار دیا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق انڈونیشی وزیر سرمایہ کاری پیر کی شام اسلام آباد پہنچے، جہاں منگل کے روز انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے وزارت خارجہ میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بات چیت کے دوران ممکنہ مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری کے مواقع اور خود مختار ویلتھ فنڈ کے ماڈلز پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی سرمایہ کاری پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔
بعد ازاں وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے، جن میں صحت سمیت دیگر اہم شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزارت خزانہ، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے بریفنگز دی گئیں۔
ان بریفنگز میں پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول، ترجیحی شعبوں اور سہولت کاری کے نظام پر روشنی ڈالی گئی، جبکہ انڈونیشیا کے تجربات سے فائدہ اٹھانے پر بھی زور دیا گیا، خاص طور پر خود مختار ویلتھ فنڈ اور ڈاؤن اسٹریم سرمایہ کاری کے شعبوں میں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہیں، اور سرمایہ کاری دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
اس ملاقات میں ایس آئی ایف سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر، وزیر صحت، وزیراعظم کے معاون خصوصی، چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ، سیکریٹری خزانہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط میں اضافہ ہوا ہے۔ دسمبر 2025 میں انڈونیشی صدر کے دورۂ پاکستان کے دوران بھی دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ جنوری میں تجارت اور دفاع کے شعبوں میں بھی اہم ملاقاتیں اور معاہدے طے پائے تھے۔
