**افغانستان سے پاکستان پر میزائل حملوں کی تاریخی یادداشت**
**کابل سے داغے گئے میزائلوں نے پاکستان میں تباہی مچائی**
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کا ایک تاریک باب 1980 کی دہائی کے آخر میں دیکھنے میں آیا جب افغان حکومت نے سوویت حمایت یافتہ **سکڈ میزائلوں** کی بارش پاکستان کے سرحدی علاقوں پر کی تھی۔ یہ حملے 1989 سے 1991 کے درمیان جاری رہے جن میں متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔
**اہم واقعات کی تفصیلات:**
– **7 اپریل 1989** — کابل سے داغا گیا ایک سکڈ میزائل خیبر پختونخوا کے علاقے **طورخم** میں گرا جس نے ڈاک خانہ مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ پاکستان نے اسے افغان حکومت کی جانب سے براہ راست اشتعال انگیزی قرار دیا جبکہ افغان حکام نے اسے ‘حادثاتی’ قرار دیا۔
– **16 نومبر 1988** — ایک میزائل سرحدی گاؤں پر گرا جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔
– **4 مئی 1989** — ضلع بنوں کے قریب افغان پناہ گزین کیمپ پر میزائل گرا، تین افغان شہری ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔
– **22 مئی 1989** — ضلع بھکر (پنجاب) کے قریب ایک اور سکڈ میزائل گرا جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔
یہ حملے اس وقت ہوئے جب سوویت یونین کی حمایت یافتہ افغان حکومت اور پاکستانی حمایت یافتہ مجاہدین کے درمیان جنگ عروج پر تھی۔ پاکستان میں پناہ گزین کیمپوں اور سرحدی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے سیکڑوں شہری متاثر ہوئے۔
**موجودہ تناظر میں یاد دہانی**
یہ تاریخی واقعات اس وقت دوبارہ زیر بحث آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی میں پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں (2025-2026) میں افغانستان کی جانب سے پاکستان پر کوئی میزائل حملے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ واقعات دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان دیرینہ عدم اعتماد اور سرحدی تنازعات کی عکاسی کرتے ہیں۔ امن اور باہمی احترام ہی دونوں ملکوں کے عوام کے لیے بہترین راستہ ہے۔
